حضرت شیخ سعدی رحمتہ اللہ علیہ بیان–Sheikh Sadi

حکایت سعدی رحمتہ اللہ علیہ

حضرت شیخ سعدی رحمتہ اللہ علیہ بیان کرتے ہیں کہ کچھ نیک لوگ مسجد میں بیٹھے ذکر الہٰی میں مشغول تھے کہ وہاں ملک کا شہزادہ آگیا۔ وہ شہزادہ اس وقت نشے میں دھت تھا اس نے آتے ہی ان نیک لوگوں کو گالیاں دیناشروع کردیں۔ جب وہ شہزادہ وہاں سے چلاگیا تو ان میں سے ایک شخص نے اپنے مرشد سے کہا کہ یہ بدکردار اس قابل ہے کہ اس کے حق میں بددعا کی جائے آپ اس کے حق میں بددعا کی جائے آپ اس کے حق میں بددعا کریں ۔ اس نے جس طرح ہماری اور اللہ عزوجل کے گھر کی توہین کی ہے اللہ جانے اور کتنے لوگوں کو یونہی تنگ کرتا ہوگا۔
مرشد نے جب مرید کی بات سنی تواپنے ہاتھ دعا کے لئے اٹھائے اور کہا: الہٰی ! یہ شہزادہ بہت اچھا ہے اسے ہمیشہ خوش وخرم رکھنا ۔
مرشد کی دعا سن کرمرید حیران ہوگیا اور اس نے مرشد سے کہا کہ حضرت ! یہ کتنی عجیب بات ہے کہ آپ ایک فاسق وفاجر کے حق میں دعا کرتے ہیں کہ اللہ عزوجل اسے ہمیشہ خوش وخرم رکھے ۔
مرشد نے جواباََ فرمایا کہ تم خاموش رہو تم وہ نہیں جانتے جس کا علم مجھے ہے ۔
کچھ دنوں بعد مرشد کی یہی کہی ہوئی باتیں اس شہزادے کے کانوں میں گئیں ۔ اس نے اسی وقت شراب نوشی اوردیگر تمام برائیوں سے توبہ کرلی اور اپنے ایک خاص قاصد کے ذریعے ان مرشد کو پیغام بھیجا کہ اگر آپ میرے پاس آئیں گے تو یہ میری خوش نصیبی ہوگی ۔
ان مرشد نے اس شہزادے کے دعوت قبول کرلی اور شہزادے کو زندگی گزارنے کے بہترین اصولوں سے آگاہ کیا ہے اور کہا کہ اس سے قبل وہ جوزندگی گزاررہا تھا وہ اسے ہلاکت میں مبتلا کرنے والی تھی ۔
شہزادے نے ان کی نصیحت کوقبول کیا اور اپنے تمام آلات موسیقی اور شراب کے جام تڑوادئیے اور نیک لوگوں کی صحبت اور طریقہ اختیار کرلیا۔ اب اس کا تمام وقت عبادت الہٰی میں بسرہوتا تھااور اس کا اپنی گذشتہ زندگی سے کوئی واسطہ نہ تھا۔ ایک وقت تھا کہ وہ اپنے  باپ کی نصیحت کو بھی قبول نہ کرتا تھا اور اب ہر وقت مسجد میں بیٹھا عبادت الہٰی میں مشغول رہتا تھا۔
سچ تو یہی ہے کہ اپنے بہترین اخلاق کے ذریعے متاثر کیاجاسکتا ہے اورسخت بات کااتنا اثر نہیں ہوتا جتنا کہ نرم بات کا ہوتا ہے ۔

:مقصود بیان

حضرت شیخ سعدی رحمتہ اللہ علیہ اس حکایت میں بیان کرتے ہیں کہ کسی شکص کو اگر متاثر کرنا ہواپنے بہترین اخلاق کے ذریعے متاثر کرواور ہمارے نبی آقائے دو جہاں حضرت سیدنا محمدﷺ بھی بہترین اخلاق کا نمونہ ہیں۔ اگر کوئی تمہارے ساتھ زیادتی کرو تو تم اس کی زیادتی کاجواب زیادتی سے نہ دو بلکہ خوش اخلاقی کا مظاہرہ کرو۔ بے شک اسلام تلوار کے زورسے نہیں بلکہ اخلاق کی طاقت سے پھیلا ہے ۔

Facebook Comments

اپنا تبصرہ بھیجیں