The cave village in Iran 60

ایران میں غاروں والا گاؤں کی خبر- جانئیے پوری بات

ایران قدرتی خوبصورتي سے بھرپور ملک ہے۔ یہاں کی آبادی کا ایک بڑا حصہ میدانی علاقوں میں رہتا ہے۔ لیکن ایران کے کچھ لوگ آج بھی غاروں میں بھی رہتے ہیں۔
ایران کا ایک قدیم گاؤں میمند ہے۔ یہ ایران کے دارالحکومت تہران سے تقریباً 900 کلو میٹر کے فاصلے پر آباد ہے۔
اس گاؤں کی آبادی خانہ بدوشوں پر مشتمل ہے۔ یہاں کے باشندے پہاڑی غاروں میں رہتے ہیں۔ ان غاروں کو ملائم پتھروں کو کاٹ کر اور تراش کر بنایا گیا ہے۔
ان غاروں میں جس طرح کی نقاشی کی گئی ہے اس کو دیکھ کر کہا جا سکتا ہے کہ یہ غار دس ہزار سال پرانے ہیں۔ یونیسکو نے اس علاقے کو عالمی وارثہ قرار دیا ہے۔
کہا جاتا ہے کہ میمند کے غار تقریباً دو ہزار سال سے آباد ہیں۔ وسطی ایران کی زیادہ تر پہاڑیاں خشک ہیں اس لیے یہاں موسم گرما میں سخت گرمی اور موسم سرما میں سخت سردی ہوتی ہے۔
موسم کے مطابق یہاں کے لوگ ان غاروں میں رہتے ہیں۔ سخت گرمی اور موسم خزاں میں لوگ چھپر ڈال کر پہاڑوں پر رہتے ہیں۔ یہ چھپر تپتی دھوپ سے انھیں سایہ مہیا کرتا ہے جبکہ سخت سردی کے موسم میں یہ لوگ ان غاروں کے اندر چلے جاتے ہیں اور پوری سردی وہیں رہتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اب سے تقریباً دس ہزار سال پہلے پہاڑوں کو کاٹ کر 400 غاروں کو بنایا گیا تھا۔ ان میں سے اب صرف
90 باقی بچے ہیں۔ غاروں میں بنے ان مکانات میں تقریباً سات کمرے ہوتے ہیں۔ ان کی لمبائی دو میٹر اور چوڑائی 20 میٹر ہوتی ہے۔
بعض کمرے کم چوڑے اور کم بلند بھی ہو سکتے ہیں۔ ممکن ہے غاروں کا نام سن کر آپ کے دل میں خیال آ رہا ہو کہ یہ گھر قدیم زمانے جیسے ہوں گے تاہم ایسا نہیں ہے۔ یہاں رہنے والوں نے ان غاروں کو مکمل طور پر تبدیل کر دیا ہے۔ آج آپ کو یہاں پر ہر طرح کی سہولتیں میسر ہیں۔
جس شخص کی جو حیثيت ہے اس کی مناسبت سے وہ اپنے ان گھروں کو بھی رکھتا ہے۔ ان غاروں میں بجلی کی بھرپور سپلائی ہے۔ اس کے علاوہ یہاں فریزر اور ٹی وی وغیرہ کا خوب استعمال ہوتا ہے۔ پانی کے لیے بھی لوگ کو پریشان نہیں ہونا پڑتا ہے کیونکہ پانی یہاں پر بھرپور مقدار میں مہیا ہے۔
البتّہ ہوا کا گزر ان گھروں میں بالکل نہیں ہوتا۔ کھانا بنانے پر گھر سیاہ نہ ہو اس کے لیے دیواروں پر کالی فلم لگا دی جاتی ہے۔ اس سے دھواں دیوار پر نہیں جمتا ہے اور آ‎سانی سے اسے صاف بھی کیا جا سکتا ہے۔ اس کی وجہ سے کمرے بھی زیادہ گرم نہیں ہوتے ہیں۔ میمند گاؤں کے بیشترافراد پارسی مذہب کے ماننے والے ہیں۔

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں