tradition of charity 81

آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقہ کا وسیع ترین مفہوم بتاتے

آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقہ کا وسیع ترین مفہوم بتاتے ہوئے فرمایا : مومن جو بھی درخت اگاتا ہے یا کھیتی بوتا ہے تو اس میں سے کوئی پرندہ چرندہ یا انسان کچھ کھا لیتا ہے تو یہ کھایا ہوا پھل اس کے لئے صدقہ ہو جاتا ہے –
یعنی اس پر بھی ایک مومن کو اجر و ثواب ملے گا اور اس کی نیکیوں میں اضافہ ہو گا –
اس حدیث پاک میں صدقہ کے وسیع معنی بیان کیے گئے ہیں-
اسلامی اصلاح میں صدقہ سے مراد اپنے حلال مال میں سے غریبوں کا حق ادا کرتا ہے-
صدقہ سے مراد فرض زکوٰت اور صدقہ ناطہ سے مراد عام خیرات اور انفاق سے مراد فی سبیل اللہ ، صدقہ سے مراد نیکی اور بھلائی ہے – نیکی کو صدقہ اس لئے فرمایا کہ نیکی مالی صدقات کے مشابہ ہوتی ہے –
اس حدیث میں صدقہ کے مفہوم میں مزید وسعت پیدا ہو گئی ہے – نیکیاں اور صدقہ تو انسان خود نیت اور ارادے سے کرتا ہے لیکن اس حدیث میں اگر کوئی چیز چرند ، پرند اور انسان بھی کسی کھیت اور باغ سے کچھ کھا جاتے ہیں اور گو کسان یا باغبان کے ارادے کا اس میں دخل نہیں ہے پھر بھی اسے اجرو ثواب ملتا ہے – یہ سراسر اللہ تعا لیٰ کا فضل ہے اور اس کسان کے لئے نفسیاتی علاج بھی کہ بجائے وہ پریشان اور دل میں کڑھے سے رجائیت کا پہلو پیش نظر رکھنا چاہیے
اور اللہ تعا لیٰ سے بہتری کی امید رکھنی چایئے – اس طرح خدمت خلق کے ہر کام کو صدقہ کا نام دیا گیا ہے – چنانچہ ارشاد بارہ تعالیٰ ہے اچھی بات کہنا صدقہ ہے کسی بھٹکے ہوئے کو راہ دکھانا بھی صدقہ ہے – اپنے ڈول سے دوسرے بھائی کے ڈول پر پانی انڈیلنا بھی صدقہ ہے – ( مسلم)
اچھی بات کرنا بھی صدقہ ہے یہ زبان کا صدقہ ہے –

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں