wazuu 36

وضو سے انسان کو ظاہری طہارت کے ساتھ ساتھ

وضو کی فضیلت کے بیان میں
وضو سے انسان کو ظاہری طہارت کے ساتھ ساتھ روحانیت پا گیزگی اوطیارت حاصل ہوتی ہے اس سے سستی دور ہوتی ہے جس سے کہ نبی   کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پناہ مانگی ہے – نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جہاں وضو کا طریقہ سکھایا ہے وہی اس کے فضائل بھی بیان ہوئے ہیں- ذیل کی احادیث میں ہم وضو کے فضائل کا مطالعہ کریں گے-
صفائی نصف ایمان
حضرت ابی مالک شعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ راوی ہیں کہ سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا “پاک رہنا آدھا ایمان ہے اور الحمد اللہ کہنا ترازوکو بھر دیتا ہے اور سبحا ن اللہ و الحمد اللہ بھر دیتے ہیں یا فرمایا ایک کلمہ بھر دیتا ہے اس چیز کو جو آسمانوں اور زمین کے درمیا ن ہے نماز نور ہے صدقہ دلیل ہے صبر کرنا روشنی اور قرآن تمھارے لئے یا تمھارے اوپر دلیل ہے ہر آدمی جب صبح کرتاہے یعنی سو کر اٹھتا ہے تو اپنی جان کو اپنے کاموں میں بیچتا ہے لہٰزا وہ اپنی جان کو آزاد کرتا ہے یا ہلاک کرتا ہے -(مسلم کی ایک روایت ہے کہ لاالہٰ الااللہ اکبر بھر دیتے ہیں اس چیز کو جو آسمان اور زمیں کے درمیان ہے “- صاحب مشکٰوۃ فرماتے ہیں کہ میں نے اس روایت کو نہ صحیح بخاری میں پایا ہے نہ مسلم میں اور نہ ہی کتاب حمیدی وکتاب جامع الاصول میں مجھے یہ روایت ملی ہے البتہ دارمی نے اس روایت کو بجائے سبحان اللہو الحمد اللہ کے ذکر کیا ہے”-
گناہوں کو مٹانے والے اعمال
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ راوی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ اکرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو نخاطب کرتے ہوئےفرمایا ” کیا میں تمھیں وہ چیزیں نہ بتادوں جس کی وجی سے اللہ تعالیٰ تمھارے گناہوں کو دور کر دے اور جس کہ سبب جنت میں تمھارے درجات کو بلند کرے صحابہ اکرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے عرض کیا ہاں یا رسول اللہ ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مشقت کے وقت وضو کو پورا کرنا مسجد کی طرف کثرت سے قدموں کا رکھنا اور نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار کرنا پس یہ رباط ہے اور مالک بن انس کی حدیث میں “پس یہ رباط ہے پس یہ رباط ہے “دو مرتبہ ہے اور جامع ترمزی کی روایت میں تین مرتبہ ہے

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں